ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہلی فساد کیس: عشرت جہاں کو جیل میں مہینے بھر میں دوسری باربُری طرح پیٹا گیا

دہلی فساد کیس: عشرت جہاں کو جیل میں مہینے بھر میں دوسری باربُری طرح پیٹا گیا

Wed, 23 Dec 2020 11:06:52    S.O. News Service

نئی دہلی،23؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)  کانگریس کی سابق کونسلر عشرت جہاں جسے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مہم میں پیش پیش رہنے کے بعد دہلی  فسادات  کے کیس میں ماخوذ کرکے جیل میں دیاگیاہے، نےمنڈولی جیل میں دیگر  قیدیوں کے  ذریعہ بری طرح پیٹے جانے کی شکایت کی ہے۔ عدالت میں اپنی پیشی کے دوران انہوں نے بتایا کہ انہیں جیل میں نہ صرف پیٹا گیا بلکہ ساتھی قیدیوں کی جانب سے مسلسل ہراساں  بھی کیا جارہاہے۔

 ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راؤت نے جیل حکام کو عشرت جہاں کی سیکوریٹی کے فوری انتظامات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہا ہے کہ ملزمہ کو مزید ہراساں نہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ دہلی فساد  میں ماخوذ کئے گئے دیگر سماجی کارکنان کی طرح عشرت جہاں پر بھی یو اے پی اے کے تحت الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ عدالت نے جیل حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ بدھ کو ایک رپورٹ پیش کرکے بتائے کہ عشرت جہاں کی سیکوریٹی کے کیا انتظامات کئے گئے ہیں۔  ساتھ ہی یہ بھی بتائے کہ کیا ملزمہ کو کسی اور جیل میں منتقل کرنے کی ضرورت ہے؟ اس سے قبل جب عدالت نے منڈولی جیل کی اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سے عشرت جہاں کی شکایت  پر باز پرس کی تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ملزمہ کے ساتھ مار پیٹ کی گئی ہے مگر بتایا کہ اس تعلق سے تمام ضروری اقدامات کرلئے گئےہیں۔  اس پر جج نے جیل کی اہلکار سے کہا کہ ’’وہ (عشرت) بری طرح ڈری ہوئی لگ رہی ہے۔اسے فوری طور پر لے جائیں اور صورتحال کی سنگینی کو سمجھیں۔ اس کے خوف اوراندیشوں کو دور کرنے کیلئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں اس کی فوری اور تفصیلی رپورٹ داخل کریں۔‘‘جج نے متنبہ کیا کہ  ’’ میں یہ نہیں سننا چاہتا کہ عدالت سے شکایت کرنے کی وجہ سے اسے ساتھی قیدیوں  یا کسی اور کے ذریعہ مزید ہراساں  کیا گیا ہے۔  ‘‘ 

 آصف تنہا، طاہر حسین اور عمرخالد نے بھی شکایت کی:  ایڈوکیٹ رضوان جو طاہر حسین کی پیروی کررہے ہیں، نے  کورٹ کو بتایا کہ دہلی فساد کے اکثر ملزمین کے ساتھ جیل میں یہی رویہ اختیار کیا جارہاہے۔ ملزمین کو کورٹ کا فیصلہ آنے سے قبل ہی دہشت گرد قراردے دیاگیاہے ۔ اس پر جج نے کہا کہ ’’ملزم ملزم ہے، مجرم نہیں ہے۔‘‘آصف اقبال تنہا نے   شکایت کی کہ ان کے اہل خانہ ان سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ملنا چاہتے ہیں مگر جیل حکام اس کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ فساد کے ملزمین کو جیل میں ٹیررسٹ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ عمرخالد نے کورٹ کو بتایا کہ ایک ماہ گزر جانے کے بعد بھی انہیں چارج شیٹ کی سافٹ کاپی  نہیں فراہم کی گئی۔ عدالت نے  عمر خالد کے وکیل کو اس سلسلے میں تہاڑ جیل کے حکام کو درخواست دینے کی ہدایت دیتے ہوئے شنوائی ملتوی کردی۔ 


Share: